بچوں کی دنیا


ایک شہر کے کنارے ایک خوبصورت سا گھر تھا، جس کا نام “بچوں کی دنیا” تھا۔ یہ عام گھر نہیں تھا بلکہ ایسا آنگن تھا جہاں ہر بچے کی ہنسی قیمتی سمجھی جاتی تھی۔

اس گھر میں آنے والا ہر بچہ چاہے یتیم ہو، غریب ہو یا اکیلا—سب کو ایک جیسا پیار ملتا۔ صبح ہوتے ہی بچوں کی دنیا میں قہقہے گونجنے لگتے، کوئی کتابیں پڑھ رہا ہوتا، کوئی تصویریں بنا رہا ہوتا اور کوئی اپنے خوابوں کی باتیں کر رہا ہوتا۔

یہاں بچوں کو صرف کھانا اور کپڑے ہی نہیں ملتے تھے، بلکہ اعتماد، محبت اور امید بھی سکھائی جاتی تھی۔

اساتذہ بچوں سے کہتے:

“تم چھوٹے ضرور ہو، مگر تمہارے خواب بہت بڑے ہیں۔”

ایک دن ایک خاموش سا بچہ آیا، جو کسی سے بات نہیں کرتا تھا۔ آہستہ آہستہ بچوں کی دنیا نے اسے بولنا سکھایا، مسکرانا سکھایا، اور خود پر یقین کرنا سکھایا۔ کچھ مہینوں بعد وہی بچہ سب سے آگے کھڑا ہو کر نظم سنا رہا تھا۔

لوگ کہتے تھے:

“یہ صرف ایک بالو گھر نہیں، یہ تو خوابوں کی نرسری ہے۔”

واقعی، بچوں کی دنیا وہ جگہ تھی جہاں ٹوٹے دل جڑتے تھے، اور ننھے ہاتھ مستقبل کی بنیاد رکھتے تھے۔

Comments

Popular posts from this blog

منظور 12 جماعت کے لیے نوٹس