چراغ جو خود جل گیا
ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا، نام اس کا ایان تھا۔
ایان کے پاس نہ دولت تھی، نہ سہولت، بس ایک چیز تھی — خاموش ہمت۔
وہ روز رات کو گھر کی چھت پر بیٹھ کر ستاروں کو دیکھتا اور آہستہ سے کہتا:
“ایک دن میں بھی روشن ہوں گا، چاہے کوئی دیکھے یا نہ دیکھے۔”
گاؤں کے لوگ ہنستے تھے۔
کہتے تھے:
“خواب پیٹ نہیں بھرتے، ایان۔”
ایان جواب نہیں دیتا تھا،
وہ بس کل سے بہتر آج بنانے کی کوشش کرتا۔
ایک دن گاؤں میں سخت اندھیرا چھا گیا۔
بجلی چلی گئی، بچے ڈر گئے، بوڑھے پریشان ہو گئے۔
ایان نے گھر کے کونے میں رکھا ہوا ایک چھوٹا سا چراغ نکالا،
وہی چراغ جسے وہ برسوں سے بچا کر رکھتا آیا تھا۔
اس نے چراغ جلایا اور گلی میں رکھ دیا۔
لوگوں نے کہا:
“ایک چراغ اندھیرے کا کیا کرے گا؟”
مگر ایان خاموش رہا۔
کچھ ہی دیر میں،
ایک چراغ سے دوسرا چراغ جلا،
دوسرے سے تیسرا…
اور پوری گلی روشن ہو گئی۔
لوگ حیران رہ گئے۔
ایان نے تب کہا:
“روشنی کو طاقت نہیں، نیت چاہیے ہوتی ہے۔”
اس دن گاؤں کو صرف روشنی نہیں ملی،
بلکہ ایک سبق ملا۔
اور ایان؟
وہ آج بھی خاموش ہے،
مگر اب اندھیرے اس سے ڈرتے ہیں۔
✨ سبق
جو خود جلنے کا حوصلہ رکھتا ہے، وہ دوسروں کو بھی روشنی دے سکتا ہے۔
:شعر
وہ جو خود جل کے بھی شکوہ نہ کرے راتوں سے
وہی چراغ بنے، راستہ دکھائے سب کو
لوگ ہنستے رہے، خواب کو کمزور کہا
وہ خاموش رہا، روشنی بانٹتا رہا سب کو


Comments
Post a Comment