منظور 12 جماعت کے لیے نوٹس
سبق منظور کا تعارف اور سوالات کے جوابات
مختصر تعارف
سعادت حسن منٹو کا تعارف اور ادبی خصوصیات
:اس کا مختصر تعارف
آپ کے فراہم کردہ عکس میں اردو ادب کے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا تعارف موجود ہے۔ اس تحریر کا خلاصہ درج ذیل ہے:
سعادت حسن منٹو: مختصر تعارف
پیدائش و وفات: آپ 1912ء میں موضع سمبرالا (لدھیانہ) میں پیدا ہوئے اور 1955ء میں وفات پائی۔
خاندانی پس منظر: والد کا نام خواجہ غلام حسن منٹو تھا۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔
تعلیمی دور: منٹو کا تعلیمی ریکارڈ زیادہ اچھا نہیں تھا، وہ اردو کے مضمون میں اکثر فیل ہو جایا کرتے تھے، حالانکہ انہیں طالب علمی کے زمانے سے ہی ادب سے گہری دلچسپی تھی۔
ادبی آغاز: انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز غیر ملکی کہانیوں کے تراجم سے کیا، لیکن جلد ہی اپنی تخلیقی کہانیاں لکھنے لگے۔ انہوں نے ریڈیو اور فلموں کے لیے بھی کہانیاں لکھیں۔
ہجرت: قیامِ پاکستان کے بعد وہ بمبئی (ممبئی) سے لاہور منتقل ہو گئے اور اپنی زندگی کے آخری ایام اسی شہر میں سخت کسمپرسی کی حالت میں گزارے۔
ادبی خصوصیات
منٹو اردو ادب کے ایک اہم اور متنازع افسانہ نگار مانے جاتے ہیں۔ ان کے فن کی چند نمایاں باتیں یہ ہیں:
ناقدین انہیں "ترقی پسند" کہتے ہیں، لیکن وہ خود اس لیبل سے انکاری تھے۔
وہ انسانی زندگی اور نفسیات کی گہری سمجھ رکھتے تھے۔
انہوں نے معاشرے کی تلخ حقیقتوں کو بے نقاب کیا اور قارئین کو چونکا دیا۔
ان کی تصانیف کا ترجمہ دنیا کی مختلف زبانوں میں ہو چکا ہے۔
مشہور تصانیف
تصویر کے مطابق ان کی چند اہم کتابیں یہ ہیں:
آتش پارے
منٹو کے افسانے
دھواں
لذتِ
سنگ
چغد
ٹھنڈا گوشت
نمرود کی خدائ
:سوالوں کے جواب
(1) سوال نمبر
اختر کو کس ہالت میں ہستپال لایا گیا ؟
جواب:
اختر کو بے ہوشی کی حالت میں، شدید زخمی اور خون میں لت پت ہسپتال لایا گیا تھا، اس کی حالت نہایت نازک تھی
سوال(2)
منظور کی بیماری کی کیا وجہ تھی ؟
:جواب
منظور کی بیماری کی وجہ
منظور کی بیماری کی وجہ مسلسل محنت، ذہنی دباؤ اور غربت کے باعث فاقہ کشی تھی۔
(3) سوال
منظور ہسپتال سے گھر کیوں نہیں جانا چاہتا تھا؟
:جواب
منظور ہسپتال سے گھر اس لیے نہیں جانا چاہتا تھا کہ وہ اپنی بیماری اور کمزوری کی وجہ سے گھر والوں پر بوجھ بننا نہیں چاہتا تھا۔
(4)سوال
اختر کے خیال میں اس کے صحت مند ہونے کی کیا وجہ تھی ؟
جواب:
اختر کے خیال میں اس کے صحت مند ہونے کی وجہ منظور کی قربانی، دعائیں اور بے لوث خدمت تھی۔
(5)سوال
ہستپال کے اہلکاروں کا منظور سے کیسا روئیہ تھا؟
جواب:
ہسپتال کے اہلکاروں کا منظور سے سرد، بے رخی اور لاپرواہی کا رویہ تھا۔
(6)سوال
منظور کے کردار پر پیرا گراف لکھے؟
جواب:
منظور کے کردار پر پیراگراف:
منظور ایک ایسا کردار ہے جو محنتی، صابر اور ذمہ دار تھا۔ وہ اپنی بیماری کے باوجود اپنے کام اور گھر والوں کی فکر کرتا رہا اور کبھی شکایت نہیں کی۔ منظور کی شخصیت میں اخلاص، قربانی اور حوصلہ جھلکتا ہے، اور وہ دوسروں کے لیے اپنی مشکلات بھول کر خدمت کرنے والا تھا۔ اس کی یہی خصوصیات اسے دوسروں کے لیے قابلِ قدر اور محبت بھرا انسان بناتی ہیں۔
"اگر وہ آپ کو یاد کرنے میں مشکل لگتا ہے تو یہ مختصر ہے"
(6)سوال
منظور کے کردار پر پیرا گراف لکھے؟
مختصر جواب:
منظور ایک محنتی، صابر اور قربانی دینے والا کردار تھا جو دوسروں کی خدمت اور مدد کو اپنی خوشی سمجھتا تھا۔
(7)سوال
اس افسانے کا خلاصہ اپنی الفاظ میں لکھے؟
جواب:
یہ افسانہ ایک ایسے شخص منظور کے بارے میں ہے جو اپنی بیماری اور مشکلات کے باوجود محنت اور قربانی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ افسانے میں بتایا گیا ہے کہ منظور اپنی کمزوری اور بیمار ہونے کے باوجود دوسروں کی مدد اور خدمت کرتا ہے۔ ایک واقعے میں اختر کو ہسپتال لے جایا جاتا ہے، اور اختر کے خیال میں منظور کی دعاؤں اور خدمت کی وجہ سے وہ صحت مند ہوتا ہے۔ افسانے کے ذریعے صبر، قربانی اور دوسروں کے لیے بے لوث خدمت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
"اگر وہ یاد نہیں ہوتا ہے تو یہ مختصر ہے"
(7)سوال
اس افسانے کا خلاصہ اپنی الفاظ میں لکھے؟
افسانہ منظور کے بارے میں ہے جو محنتی، صابر اور دوسروں کی خدمت کرنے والا ہے۔ وہ اپنی بیماری کے باوجود لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ اختر کے خیال میں منظور کی دعاؤں اور قربانی کی وجہ سے وہ صحت مند ہوا۔ افسانہ صبر، قربانی اور بے لوث خدمت کی اہمیت سکھاتا ہے
اگر کسی چیز کی غلطی ہوئی ہوں تو بتانا یہ پہلی بار بنا رہا ہوں
پھر ملتے ہیں اور سابق کے ساتھ فلحال کے لیے دے اجازت اپنا بہت بہت خیال رکھیے
اللہ حافظ 👋
Comments
Post a Comment